بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ٹرمپیت (ٹرمپ ازم Trumpism) صرف ٹرمپ کی ذات تک محدود نہیں؛ بلکہ یہ امریکی خارجہ پالیسی کا ایک طریقہ ہے جس میں "طاقت" کو "بات چیت" پر مقدم رکھا جاتا ہے، "دباؤ" سودے بازی (کچھ لو کچھ دو) کا ذریعہ بنتا ہے، اور اپنے ناجائز مقصد کا حصول، پالیسی کا حتمی مقصد قرار پاتا ہے۔ ایران کے معاملے میں یہ نمونہ باقی تمام معاملات سے زیادہ واضح ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے باضابطہ طور پر "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی پالیسی بحال کر دی اور اقتصادی دباؤ ڈالنے، پابندیوں کو سخت کرنے اور ایران کے آمدنی کے ذرائع کو محدود کرنے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا۔ لیکن یہ بنیادی سوال بدستور باقی ہے کہ "کیا دباؤ سے کسی قوم کا ارادہ خریدا جا سکتا ہے؟"
جب سفارت کاری دھمکی پر مبنی موقف سے شروع ہوتی ہے
سفارت کاری اپنے حقیقی معنی میں متضاد مفادات کے درمیان مشترکہ نکات تلاش کرنے کا فن ہے؛ لیکن اگر مذاکرات کی روش یہ ہو کہ ایک فریق پہلے دھمکی دے، پابندیاں لگائے اور نقصان پہنچائے اور پھر کہے "اب مذاکرات کی میز پر آؤ"، تو پھر یہ برابر کا تعلق نہیں رہتا۔ ٹرمپ نے بارہا اپنی پالیسی کو اسی منطق سے بیان کیا ہے: دباؤ سے معاہدے تک پہنچنے کی کوشش۔ وائٹ ہاؤس کے سرکاری موقف میں بھی ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ پر زور دینے کے ساتھ ساتھ "معاہدے" کے امکان کا ذکر کیا گیا ہے۔
یہاں مسئلہ صرف ایران نہیں؛ مسئلہ وہ تصویر ہے جو اس طرح کا رویہ بین الاقوامی تعلقات کے بارے میں پیش کرتا ہے: زیادہ طاقت یعنی شرائط مسلط کرنے کا زیادہ استحقاق؟
جب پابندی مذاکرات کی زبان بن جاتی ہے
امریکی خارجہ پالیسی میں برسوں سے، پابندیاں محض اقتصادی اوزار نہیں، بلکہ حکومتوں کا رویہ تبدیل کرنے کا ذریعہ بن چکی ہیں۔ ایران کے معاملے میں ٹرمپ انتظامیہ نے 2026 میں بھی اقتصادی دباؤ بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا اور ایران کی معیشت، نیز ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک کے خلاف نئے اقدامات کا اعلان کیا۔ لیکن پابندی کا ایک اور نتیجہ بھی ہے: سیاسی تنازع کے کچھ اخراجات، عوام کی معاشی زندگی پر منتقل کرنا۔ لیکن ایرانی معاشرے کے ردعمل کو صرف قیمتوں کے گراف، زر مبادلہ کی شرح یا تجارت کے حجم سے نہیں جانا جا سکتا۔
کہا جاتا ہے پہلے دباؤ ڈالو، پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھو اور آخر میں سودا کرو [اور یکطرفہ طور پر مفاد حاصل کرو]۔ یہاں "حکومت پر دباؤ" اور "معاشرے پر دباؤ" کے اخراجات میں فرق کا قائل ہونا ضروری ہے۔
کسی بھی خارجہ پالیسی کو نہ صرف اعلان کردہ مقصد، بلکہ عوام اور پورے خطے پر اس کے حقیقی اثرات سے بھی پرکھنا چاہئے۔
ٹرمپیت اور خارجہ پالیسی کی ذاتی شکل
ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے تجزیئے میں ایک اور خصوصیت ـ جس پر توجہ دی گئی ہے وہ ـ ذاتی تعلقات، مرکوز فیصلہ سازی اور رہنماؤں کے براہ راست سودے بازیوں کا نمایاں کردار ہے۔ روئٹرز نے ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے بارے میں ایک رپورٹ میں اس کے مرکوز اور ذاتی بنائے گئے (personalized) نوعیت کے انداز اور امریکی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر اس نقطہ نظر کے اثرات کی رپورٹ دی ہے۔ اس نظریئے میں دنیا کو اداروں، قواعد اور پائیدار معاہدوں کے مجموعے سے زیادہ، ایک بڑی سودے بازی کی میز کی طرح دیکھا جاتا ہے۔ ممالک رعایتیں دیتے اور لیتے ہیں؛ ٹیرف دباؤ کا ذریعہ بنتا ہے؛ پابندی مذاکرات کا ہتھیار بنتی ہے؛ فوجی دھمکی سیاسی پیغام بنتی ہے اور آخر میں معاہدہ، مطلوبہ نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں "خارجہ پالیسی" "بین الاقوامی سودے بازی" کے قریب پہنچ جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: رضا معممی مقدم
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ